نئی دہلی: 17/مئی (ایس اونیوز) گورنرکرناٹک وجوبھائی والا کے بی جے پی کو کرناٹک میں حکومت تشکیل دینے کی دعوت کے صرف ایک ہی دن بعد اپوزیشن پارٹیوں نے چار دیگر ریاستوں گوا، بہار، میگالیہ اور منی پور کے گورنرس سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تشکیل حکومت کی دعوت دی جائے کیونکہ وہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان ریاستوں میں واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھیں۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ گورنر گوامریدوالا سنہاسے ملاقات کرکے ان کی پارٹی کو تشکیل حکومت کا ادعا پیش کرنے کے لیے کہیں۔ آرجے ڈی قائد تیجوی یادو نے بھی گورنر بہار ستیہ پال ملک سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اسمبلی تحلیل کردیں اور ان کی پارٹی کو ریاست میں تشکیل حکومت کی دعوت دیں۔ بعد ازاں دن میں دو مزید ریاستوں کی اپوزیشن پارٹیوں نے تشکیل حکومت کا ادعاکیاہے۔ منی پور کے سابق چیف منسٹر اوکرام ابوبی سنگھ اور میگھالیہ کے سابق چیف منسٹر مکل سنگمانے اپنی اپنی ریاست کے گورنر سے کل ملاقات کا وقت طلب کیاہے۔ گوا کے 2017ء اسمبلی انتخابات میں کانگریس 40 نشستی اسمبلی میں 21نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی پارٹی تھی تاہم بی جے پی مابعد انتخابی اتحاد کے ذریعہ ریاست میں حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی۔ بہار میں آ ر جے ڈی واحد سب سے بڑی پارٹی 243رکنی اسمبلی میں 2015ء انتخابات میں اسے 80نشستیں حاصل ہوئی تھیں لیکن اسے اپوزیشن کی حیثیت دی گئی۔ منی پور اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو اکثریت حاصل کرنے صرف تین نشستیں حاصل ہوئی تھیں لیکن 21رکنی بھگوا پارٹی نے نیشنل پیپلز پارٹی 4نشستیں، ناگا پیپلز فرنٹ 4نشستیں اور لوک جن شکتی پارٹی 1نشست کے ساتھ اتحاد کرکے ریاست میں پہلی بی جے پی حکومت تشکیل دی۔ میگھالیہ میں کانگریس 21نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی پارٹی تھی۔ دوسرے مقام پر 19نشستوں کے ساتھ نشینل پیپلز پارٹی تھی۔ یہ2017ء کے اسمبلی انتخابی نتائج ہیں۔ این پی پیی کے پونراڈ سنگما نے 34ارکان اسمبلی کی تائید سے حکومت تشکیل دی۔ کانگریس کے گوا نچارج چیلا کمار نے آج کہا کہ مزید قائدین گورنر گواسے ملاقات کریں گے اور ان سے خواہش کریں گے کہ ان کی پارٹی کو تشکیل حکومت کی دعوت دیں۔ یہ کرناٹک میں پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں واضح طور پراتحاد کا مظاہرہ ہوگا۔ آر جے ڈی قائد تیجسوی یادو بھی ان کی تقلید کریں گے۔ گورنر ستیہ پال ملک سے خواہش کریں گے کہ بہار اسمبلی تحلیل کرکے ان کی پارٹی کو تشکیل حکومت کی دعوت دی جائے۔ آرجے دی کو واحد سب سے بڑی پارٹی تسلیم کیاجائے۔ کل کرناٹک میں جمہوریت کے قتل کے خلاف ایک روزہ دھرنا دیاجائے گا۔ بہار گورنر سے ریاستی حکومت کو تحلیل کرنے کے لیے کہاجائے گا اور کرناٹک میں واحد سب سے بڑی پارٹی کو تشکیل حکومت کی دعوت دینے کی طرح بہار میں آرجے ڈی کو دعوت دینے کا مطالبہ کیاجائے گا۔ تیجسوی یاد ونے کہاکہ وہ گورنر بہارسے کل دوپر ایک بجے ملاقات کریں گے۔ بی جے پی کیسے اپنی اکثریت ثابت کرسکے گی؟ امیت شاہ کے پا س ایک ہی فارمولا ہے۔خرید وفروخت یا سی بی آئی یا ای ڈی جیسے محکموں کو دیگر پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کے پیچھے لگانا۔ یہ بی جے پی کی عامریت ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ اگر بی جے پی کی مخالفت نہ کی جائے تو وہ کرناٹک اوربہار کا اعادہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کے آئندہ انتخابات میں بھی کرسکتی ہے۔اگر ہم آج متحد نہ ہوں تو جیسا بہار میں کل ہوا۔ کرناٹک میں آج ہورہاہے اور آئندہ کل مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے 16ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں اور اس تعداد کے ساتھ ہم گوا اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ گورنر کوچاہئے کہ ہمیں گوا میں تشکیل حکومت کی دعوت دیں اور اپنے کرناٹک کے ہم منصب کی تقلید کرے۔ کاؤلیکر نے جو گوا اسمبلی کے قائد اپوزیشن ہیں نشاندہی کی کہ کانگریس کوکم از کم 21ارکان کی ضرورت ہے تاکہ تشکیل حکومت کادعویٰ پیش کرے لیکن گورنر جیسے ہی چیف منسٹر کانگریس کی حلف برداری کروائیں گے ہم ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے موقف میں ہوں گے۔ تعداد ایوان اسمبلی میں ثابت کی جاتی ہے اور یہ اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ اس طرح ملک کی چار ریاستوں میں ایک دستوری بحران پیدا ہوگیاہے۔